بنگلورو،31/دسمبر(ایس او نیوز) سابق مرکزی وزیر ورکن کونسل کانگریس لیڈر سی ایم ابراہیم نے این آر سی اور سی اے اے کے خلاف شمالی کرناٹک وحیدرآباد کرناٹک کے مختلف اضلاع میں تعلقہ سطح پر چلائی جارہی تحریک میں حصہ لینے بیجاپور روانگی سے قبل کہا کہ ہندوستان میں گزشتہ 70/ سال کے دوران یہاں کے شہریوں کو ایسے حالات کا کبھی سامنا کرنا نہیں پڑا تھا جیسے کہ آج ان کے سامنے حالات پیش آرہے ہیں۔ اس ملک کی عدلیہ سے بھی اب عوام کو امید کم رہ گئی ہے کہ انہیں انصاف ملے گا۔ اس لئے آج ضرورت ہے کہ سیاسی ودیگر اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر ملک کی سکیولر ذہن تنظیموں، اداروں اور طلباء یونینوں کے ساتھ تعلقہ سطح پر این آر سی اور سی اے اے کے خلاف پر امن احتجاج اور مخالفت جاری رکھیں اسے کسی مذہب سے جڑے بغیر کچلے اور کمزور طبقات کو ساتھ لے کر تحریک چلانی ہوگی۔اللہ کا شکر ہے کہ آج عوام میں بیداری آرہی ہے اور ہر کوئی ان قوانین کے خلاف متحد ہوکر آواز اٹھارہا ہے تعلقہ سطح پر جگہ جگہ جو احتجاج اور پروگرام ہورہے ہیں ان کے ذریعہ حکومت پر دباؤ ڈالنے ان قوانین کو واپس لینے کے مطالبہ کے علاوہ عدالت میں بھی عرضیاں داخل کرنے کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ سی ایم ابراہیم نے سیاسی ومذہبی قائدین سے درخواست کی ہے کہ وہ لوگ بھی ریاست بھر کا دورہ کرکے عوامی بیداری کے علاوہ عوام میں اعتماد پیدا کرنے ان قوانین کے خلاف تحریک کا حصہ بن کر عوام کی مددکریں۔ خصوصاً دیگر مذاہب کے مذہبی رہنماؤں کو ساتھ رکھ کر تحریک چلائی جائے۔ تمام سکیولر سیاسی پارٹیاں آج مغربی بنگال، کیرلا، دہلی، بہار میں مرکزی حکومت کے ان نئے قوانین کے خلاف ایک اسٹیج پر جمع ہوکر تحریک چلارہی ہیں اور ساتھ ہی قانونی جنگ بھی لڑ رہے ہیں۔ مودی حکومت اپنی ناکامیوں کو چھپانے اور عوام کی توجہ اہم مسائل سے ہٹانے کے لئے اس طرح کے قوانین لاکر عوام کو الجھائے رکھنے کا کام کررہی ہے۔